فهرس الكتاب

الصفحة 1183 من 3890

کتاب: طلاق اور لعان کے احکام ومسائل

1183 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَاوَزَ اللَّهُ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا حَدَّثَ نَفْسَهُ بِالطَّلَاقِ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ حَتَّى يَتَكَلَّمَ بِهِ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'اللہ تعالیٰ نے میری امت کے خیالات کو جودل میں آتے ہیں معاف فرمادیاہے جب تک کہ وہ انہیں زبان سے ادانہ کرے، یا ان پر عمل نہ کرے' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پرعمل ہے کہ آدمی جب اپنے دل میں طلاق کا خیال کرلے تو کچھ نہیں ہوگا ، جب تک کہ وہ منہ سے نہ کہے۔

۱؎: اس حدیث سے معلوم ہواکہ دل میں پیداہونے والے خیالات اورگزرنے والے وسوسے مواخذہ کے قابل گرفت نہیں، مثلًا کسی کے دل میں کسی لڑکی سے شادی یاپنی بیوی کوطلاق دینے کاخیال آئے تومحض دل میں خیال آنے سے یہ باتیں واقع نہیں ہوں گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت