فهرس الكتاب

الصفحة 1321 من 3890

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل

1321 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُولُوا لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا الْبَيْعَ وَالشِّرَاءَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید وفروخت کررہاہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کودیکھوجو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اُسے) تلاش کرتاہو تو کہو: اللہ تمہاری چیزتمہیں نہ لوٹائے'۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن غریب ہے،۲- بعض اہل علم کا اسی پرعمل ہے، وہ مسجد میں خرید وفروخت ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہی احمد اوراسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے،۳- بعض اہل علم نے اس میں خرید وفروخت کی رخصت دی ہے ۱؎ ۔

۱؎: ان لوگوں کا کہناہے کہ حدیث میں جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں، یعنی نہ بیچنابہترہے ، مگریہ نری تاویل ہے ، جب صحیح حدیث میں بالصراحت ممانعت موجودہے توپھرمساجد میں خریدوفروخت سے باز رہتے ہوئے بازار اور مساجد میں فرق کو قائم رکھناچاہئے ، پہلی قومیں اپنے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے احکام کی نافرمانیوں اور غلط تاویلوں کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھیں۔ (اللهم أحفظنا بما تحفظ به عبادك الصالحين)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت