فهرس الكتاب

الصفحة 1585 من 3890

کتاب: سیر کے بیان میں

1585 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ أَوْفُوا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ يَعْنِي الْإِسْلَامَ إِلَّا شِدَّةً وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَقَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا:' جاہلیت کے حلف (معاہدئہ تعاون) کو پوراکرو ۱؎ ، اس لیے کہ اس سے اسلام کی مضبوطی میں اضافہ ہی ہوتاہے اوراب اسلام میں کوئی نیا معاہدئہ تعاون نہ کرو' ۲؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،۲- اس باب میں عبدالرحمن بن عوف، ام سلمہ ، جبیر بن مطعم ، ابوہریرہ، ابن عباس اورقیس بن عاصم رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: یعنی زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے متعلق جو عہد ہوا ہے اسے پورا کرو بشرطیکہ یہ عہد شریعت کے مخالف نہ ہو۔

۲؎: یعنی یہ عہد کرنا کہ ہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، کیوں کہ اسلام آجانے کے بعد اس طرح کا عہد درست نہیں ہے، بلکہ وراثت سے متعلق عہد کے لیے اسلام کافی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت