فهرس الكتاب

الصفحة 2299 من 3890

کتاب: شہادت( گواہی) کے احکام ومسائل

2299 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنْ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ وَاخْتَلَفُوا فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ وَلَا نَعْرِفُ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ سَمَاعًا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوے اورفرمایا:' لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابرہے، پھر آپﷺ نے یہ آیت پڑھی { فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ } (الحج: ۳۰) توبتوں کی گندگی سے بچے رہو (ان کی پرستش نہ کرو) اورجھوٹ بولنے سے بچے رہو۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں۔ اورلوگوں نے سفیان بن زیادسے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے، ۳- نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرمﷺ سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت