فهرس الكتاب

الصفحة 2263 من 3890

کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں

2263 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى أُنَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ قَالَ فَسَكَتُوا فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا قَالَ خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہﷺ کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آکرٹھہرے اور فرمایا: 'کیا میں تمہارے اچھے لوگوں کو تمہارے برے لوگوں میں سے نہ بتادوں؟' لوگ خاموش رہے ، آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ ہمارے اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے بتادیجئے، آپ نے فرمایا:'تم میں بہتروہ ہے جس سے خیرکی امیدرکھی جائے اورجس کے شرسے مامون (بے خوف) رہاجائے اورتم میں سے براوہ ہے جس سے خیرکی امیدنہ رکھی جائے اورجس کے شرسے مامون (بے خوف) نہ رہا جائے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت