فهرس الكتاب

الصفحة 753 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

753 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَقَ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى حَدِيثِ عَائِشَةَ وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا يَرَوْنَ صِيَامَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَاجِبًا إِلَّا مَنْ رَغِبَ فِي صِيَامِهِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ مِنْ الْفَضْلِ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عاشوراء ایک ایسا دن تھا کہ جس میں قریش زمانہء جاہلیت میں صوم رکھتے تھے اور رسول اللہﷺ بھی اس دن صوم رکھتے تھے، جب آپ مدینہ آئے تواس دن آپ نے صوم رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن صوم رکھنے کا حکم دیا ،لیکن جب رمضان کے صیام فرض کئے گئے تو صرف رمضان ہی کے صیام فرض رہے اور آپ نے عاشورا ء کا صیام ترک کردیا ، تو جو چاہے اس دن صوم رکھے اور جوچاہے نہ رکھے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث صحیح ہے ۱ ؎ ،۲- اس باب میں ابن مسعود ، قیس بن سعد ، جابر بن سمرہ ، ابن عمر اور معاویہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اہل علم کاعمل عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر ہے، اور یہحدیث صحیح ہے، یہ لوگ یوم عاشورا ء کے صوم کوواجب نہیں سمجھتے، الا یہ کہ جو اس کی اس فضیلت کی وجہ سے جوذکرکی گئی اس کی رغبت رکھے ۔

۱ ؎: مولف نے حدیث پر حکم تیسرے فقرے میں لگایاہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت