962 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ وَهُوَ مُحْرِمٌ غَيْرِ الْمُقَتَّتِ قَالَ أَبُو عِيسَى الْمُقَتَّتُ الْمُطَيَّبُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ وَرَوَى عَنْهُ النَّاسُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ حالت احرام میں زیتون کا تیل لگاتے تھے اوریہ (تیل) بغیر خوشبو کے ہوتاتھا ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف فرقدسبخی کی روایت سے جانتے ہیں، اورفرقدنے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے فرقد سبخی کے سلسلے میں کلام کیا ہے، اورفرقدسے لوگوں نے روایت کی ہے،۲- مقتت کے معنی خوشبو دار کے ہیں۔
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہواکہ محرم کے لیے زیتون کا تیل جس میں خوشبوکی ملاوٹ نہ ہولگاناجائزہے، لیکن حدیث ضعیف ہے ۔
نوٹ: (سند میں فرقد سبخی لین الحدیث اورکثیر الخطاء راوی ہیں) (وأخرجہ خ/الحج۱۸(۱۵۳۷) موقوفا علی ابن عمر وہو أصح)