334 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ فِي الْحِيطَانِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْبَسَاتِينَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ قَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ وَأَبُو الزُّبَيْرِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ تَدْرُسَ وَأَبُو الطُّفَيْلِ اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ
معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ باغات میں صلاۃ پڑھنا پسند فرماتے تھے۔
ابوداود کہتے ہیں: حیطان سے مراد بساتین ہیں (باغات) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: معاذ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم حسن بن ابی جعفر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اورحسن بن ابی جعفر کو یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف قراردیاہے۔
نوٹ: (سندمیں حسن بن ابی جعفرضعیف ہیں)