فهرس الكتاب

الصفحة 1045 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

1045 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَنَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا وَفِي الْبَاب عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'بغلی قبرہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابن عباس کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے،۲- اس باب میں جریر بن عبداللہ ، عائشہ ، ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصودیہ ہے کہ بغلی قبرافضل ہے اورایک قول یہ ہے کہ ' اللحد لنا'کا مطلب ہے 'اللحد لي'یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے جمع کاصیغہ تعظیم کے لیے ہے یا' اللحد لنا'کا مطلب ' اللحد اختيارنا'ہے یعنی بغلی قبرہماری پسندیدہ قبرہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ صندوقی قبرمسلمانوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مدینہ میں قبرکھودنے والے دوشخص تھے ایک بغلی بنانے و الا دوسراشخص صندوقی بنانے والا اگرصندوقی ناجائزہوتی توانہیں اس سے روک دیاجاتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت