110 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإسْلاَمِ، ثُمَّ نُهِيَ عَنْهَا.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صرف منی (نکلنے) پرغسل واجب ہوتا ہے،یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، پھر اس سے روک دیاگیا۔1
۱؎: اورحکم دیا گیا کہ منی خواہ نکلے یا نہ نکلے اگرختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے توغسل واجب ہوجائے گا۔