فهرس الكتاب

الصفحة 1487 من 3890

کتاب: شکار کے احکام ومسائل

1487 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا أَوْ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِضَارٍ وَلَا كَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:'جس نے ایسا کتاپالایارکھاجو سدھایاہوا شکاری اور جانوروں کی نگرانی کرنے والا نہ ہو تو اس کے ثواب میں سے ہردن دوقیراط کے برابر کم ہوگا ' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرمﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا: 'أَوْ کَلْبَ زَرْعٍ' (یاوہ کتاکھیتی کی نگرانی کرنے والانہ ہو) ،۳- اس باب میں عبد اللہ بن مغفل ، ابوہریرہ ، اورسفیان بن أبی زہیر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: قیراط ایک وزن ہے جو اختلاف زمانہ کے ساتھ بدلتا رہاہے، یہ کسی چیز کا چوبیسواں حصہ ہوتا ہے، کتا پالنے سے ثواب میں کمی کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں: ایسے گھروں میں فرشتوں کا داخل نہ ہونا ، گھروالے کی غفلت کی صورت میں برتن میں کتے کا منہ ڈالنا ، پھر پانی اور مٹی سے دھوئے بغیر اس کا استعمال کرنا، ممانعت کے باوجود کتے کا پالنا، گھر میں آنے والے دوسرے لوگوں کو اس سے تکلیف پہنچناوغیرہ وغیرہ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت