فهرس الكتاب

الصفحة 839 من 3890

کتاب: حج کے احکام ومسائل

839 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ قَالُوا لَا يَحْلِقُ شَعْرًا و قَالَ مَالِكٌ لَا يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ و قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ لَا بَأْسَ أَنْ يَحْتَجِمَ الْمُحْرِمُ وَلَا يَنْزِعُ شَعَرًا

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں انس ۲؎ ،عبداللہ بن بحینہ ۳؎ اور جابر رضی اللہ عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ،۳- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو پچھنا لگوانے کی اجازت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بال نہیں منڈا ئے گا،۴- مالک کہتے ہیں کہ محرم پچھنا نہیں لگواسکتا، الایہ کہ ضروری ہو،۵- سفیان ثوری اور شافعی کہتے ہیں: محرم کے پچھنالگوانے میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بال نہیں اتارسکتا۔

۱؎ اس روایت سے معلوم ہوا کہ حالت احرام میں پچھنا لگوانا جائزہے، البتہ اگربچھنا لگوانے میں بال اتروانا پڑے تو فدیہ دینا ضروری ہوگا، یہ فدیہ ایک بکری ذبح کرنا ہے، یا تین دن کے صیام رکھنا، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ۔۲؎: انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے احرام کی حالت میں اپنے پاؤں کی پشت پر تکلیف کی وجہ سے پچھنا لگوایا ۔۳؎: عبداللہ ابن بحینہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حالت احرام میں لحی جمل میں اپنے سرکے وسط میں پچھنا لگوایا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت