فهرس الكتاب

الصفحة 2769 من 3890

کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام

2769 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ قَالَ إِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَافْعَلْ قُلْتُ وَالرَّجُلُ يَكُونُ خَالِيًا قَالَ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَجَدُّ بَهْزٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ وَقَدْ رَوَى الْجُرَيْرِيُّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ وَالِدُ بَهْزٍ

معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرم گاہیں کس قدر کھول سکتے اورکس قدرچھپاناضروری ہیں؟ آپ نے فرمایا:' اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر کسی سے اپنی شرم گاہ کو چھپاؤ '، انہوں نے کہا:آدمی کبھی آدمی کے ساتھ مل جل کررہتاہے؟ آپ نے فرمایا:' تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ تمہاری شرم گاہ کوئی نہ دیکھ سکے' ، میں نے کہا: آدمی کبھی تنہا ہوتاہے؟ آپ نے فرمایا:' اللہ توا ور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے'۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے،۲- بہز کے دادا کانام معاویہ بن حیدۃ القشیری ہے۔۳- اور جریری نے حکیم بن معاویہ سے روایت کی ہے اوروہ بہز کے والد ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت