فهرس الكتاب

الصفحة 2377 من 3890

کتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

2377 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اتَّخَذْنَا لَكَ وِطَاءً فَقَالَ مَا لِي وَمَا لِلدُّنْيَا مَا أَنَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک چٹائی پرسوگئے، نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کے پہلو پر چٹائی کا نشان پڑگیاتھا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! ہم آپ کے لیے ایک بچھونا بنادیں تو بہتر ہوگا، آپﷺ نے فرمایا:' مجھے دنیا سے کیامطلب ہے، میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سوار ہو جو ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے بیٹھے ، پھر وہاں سے کوچ کرجائے اور درخت کو اسی جگہ چھوڑ دے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت