فهرس الكتاب

الصفحة 1544 من 3890

کتاب: نذراورقسم(حلف)کے احکام ومسائل

1544 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْيَحْصُبِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا فَلْتَرْكَبْ وَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بہن نے نذرمانی ہے کہ وہ چادر اوڑھے بغیر ننگے پاؤں چل کرخانہ کعبہ تک جائے گی،تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا ! ۱؎ اسے چاہئے کہ وہ سوار ہوجائے ، چادراوڑھ لے اورتین دن کے صیام رکھے ' ۲؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے ،۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے،۳- اہل علم کا اسی پرعمل ہے ، احمداوراسحاق کابھی یہی قول ہے۔

۱؎: یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب اسے نہیں دے گا۔

۲؎: اس حدیث کی روسے اگر کسی نے بیت اللہ شریف کی طرف پیدل یا ننگے پاؤں چل کر جانے کی نذر مانی ہوتو ایسی نذ ر کا پورا کرنا ضروری اور لازم نہیں، اور اگر کسی عورت نے ننگے سرجانے کی نذر مانی ہوتو اس کو تو پوری ہی نہیں کرنی ہے کیوں کہ یہ معصیت اورگناہ کا کام ہے۔

نوٹ: (اس کے راوی 'عبیداللہ بن زحر' سخت ضعیف ہیں ، اس میں 'روزہ والی بات 'ضعیف ہے، باقی ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجودہیں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت