فهرس الكتاب

الصفحة 1707 من 3890

کتاب: جہاد کے احکام ومسائل

1707 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ عَلَيْهِ وَلَا طَاعَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' جب تک معصیت کا حکم نہ دیاجائے مسلمان پر سمع وطاعت لازم ہے خواہ وہ پسندکرے یا ناپسندکرے ، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیاجائے تو نہ اس کے لیے سنناضروری ہے اورنہ اطاعت کرنا ' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں علی ، عمران بن حصین اورحکم بن عمروغفاری رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: یعنی امام کا حکم پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ اسے بجالانا ضروری ہے، بشرطیکہ معصیت سے اس کا تعلق نہ ہو، اگر معصیت سے متعلق ہے تو اس سے گریز کیاجائے گا، لیکن ایسی صورت سے بچنا ہے جس سے امام کی مخالفت سے فتنہ و فساد کے رونما ہونے کا خدشہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت