فهرس الكتاب

الصفحة 726 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

726 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاتِكَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَكَتْ عَيْنِي أَفَأَكْتَحِلُ وَأَنَا صَائِمٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَلَا يَصِحُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ وَأَبُو عَاتِكَةَ يُضَعَّفُ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْكُحْلِ لِلصَّائِمِ فَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْكُحْلِ لِلصَّائِمِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کے پاس آکر پوچھا: میری آنکھ آگئی ہے، کیا میں سرمہ لگالوں ،میں صوم سے ہوں؟ آپ نے فرمایا:' ہاں' (لگالو) ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- انس کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- اس باب میں نبی اکرمﷺ سے مروی کوئی چیز صحیح نہیں، ۳- ابوعاتکہ ضعیف قراردیے جاتے ہیں،۴- اس باب میں ابورافع سے بھی روایت ہے،۵ - صائم کے سرمہ لگانے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض نے اسے مکروہ قراردیاہے ۱؎ یہ سفیان ثوری ، ابن مبارک ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے اور بعض اہل علم نے صائم کو سرمہ لگانے کی رخصت دی ہے اور یہ شافعی کا قو ل ہے۔

۱؎: ان کی دلیل معبدبن ہوذہ کی حدیث ہے جس کی تخریج ابوداودنے کی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرمﷺنے مشک ملاہوا سرمہ سوتے وقت لگانے کا حکم دیااورفرمایاصائم اس سے پرہیزکرے، لیکن یہ حدیث منکرہے،جیساکہ ابوداودنے یحییٰ بن معین کے حوالے سے نقل کیا ہے، لہذا اس حدیث کے روسے صائمکے سرمہ لگانے کی کراہت پراستدلال صحیح نہیں، راجح یہی ہے کہ صائم کے لیے بغیرکراہت کے سرمہ لگاناجائزہے ۔

نوٹ: (سندمیں ابوعاتک طریف سلمان ضعیف راوی ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت