فهرس الكتاب

الصفحة 2762 من 3890

کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام

2762 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ لَا أَعْرِفُ لَهُ حَدِيثًا لَيْسَ لَهُ أَصْلٌ أَوْ قَالَ يَنْفَرِدُ بِهِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ هَارُونَ وَرَأَيْتُهُ حَسَنَ الرَّأْيِ فِي عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى و سَمِعْت قُتَيْبَةَ يَقُولُ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ كَانَ صَاحِبَ حَدِيثٍ وَكَانَ يَقُولُ الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَبَ الْمَنْجَنِيقَ عَلَى أَهْلِ الطَّائِفِ قَالَ قُتَيْبَةُ قُلْتُ لِوَكِيعٍ مَنْ هَذَا قَالَ صَاحِبُكُمْ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ اپنی ڈاڑھی لمبائی اور چوڑائی سے لیاکرتے تھے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے،۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کوکہتے ہوئے سنا ہے: عمربن ہارون مقارب الحدیث ہیں۔ میں ان کی کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس کی اصل نہ ہو، یا یہ کہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس میں وہ منفرد ہوں، سوائے اس حدیث کے کہ نبی اکرمﷺ اپنی ڈاڑھی کے طول وعرض سے کچھ لیتے تھے۔ میں اسے صرف عمر بن ہارون کی روایت سے جانتاہوں ۔ میں نے انہیں (یعنی بخاری کو عمربن ہارون) کے بارے میں اچھی رائے رکھنے والا پایاہے،۳- میں نے قتیبہ کو عمر بن ہارون کے بارے میں کہتے ہوئے سناہے کہ عمر بن ہارون صاحب حدیث تھے۔ اور وہ کہتے تھے کہ ایمان قول وعمل کانام ہے، ۴- قتیبہ نے کہا: وکیع بن جراح نے مجھ سے ایک شخص کے واسطے سے ثوربن یزیدسے بیان کیاثوربن یزید سے اورثوربن یزیدروایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے اہل طائف پرمنجنیق نصب کردیا۔ قتیبہ کہتے ہیں میں نے (اپنے استاد) وکیع بن جراح سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہیں؟ (جن کا آپ نے ابھی روایت میں عن رجل کہہ کرذکر کیا ہے) تو انہوں نے کہا: یہ تمہارے ساتھی عمربن ہارون ہیں ۱؎ ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت