فهرس الكتاب

الصفحة 1188 من 3890

کتاب: طلاق اور لعان کے احکام ومسائل

1188 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَرْأَةَ كَالضِّلَعِ إِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَإِنْ تَرَكْتَهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا عَلَى عِوَجٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَسَمُرَةَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' عورت کی مثال پسلی کی ہے ۱؎ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگوگے توتوڑ دوگے اورا گر اسے یوں ہی چھوڑے رکھاتو ٹیڑھ کے باوجودتم اس سے لطف اندوز ہوگے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابوہریرہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے اوراس کی سند جید ہے،۲- اس باب میں ابوذر، سمرہ، اورام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: یعنی عورتوں کی خلقت ہی میں کچھ ایسی بات ہے، لہذا جس فطرت پر وہ پیداکی گئیں ہیں اس سے انہیں بدلانہیں جاسکتا۔ اس لیے ان باتوں کا لحاظ کرکے ان کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں تاکہ معاشرتی زندگی سکون اورآرام وچین کی ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت