فهرس الكتاب

الصفحة 731 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

731 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ إِنِّي أَذْنَبْتُ فَاسْتَغْفِرْ لِي فَقَالَ وَمَا ذَاكِ قَالَتْ كُنْتُ صَائِمَةً فَأَفْطَرْتُ فَقَالَ أَمِنْ قَضَاءٍ كُنْتِ تَقْضِينَهُ قَالَتْ لَا قَالَ فَلَا يَضُرُّكِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَائِشَةَ

ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اتنے میں آپ کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی، آپ نے اس میں سے پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی پیا۔ پھرمیں نے عرض کیا: میں نے گناہ کاکام کرلیاہے۔ آپ میرے لیے بخشش کی دعاکردیجئے۔ آپ نے پوچھا: کیابات ہے؟میں نے کہا: میں صوم سے تھی اورمیں نے صوم توڑدیاتو آپ نے پوچھا: کیاکوئی قضا کا صوم تھا جسے تم قضا کررہی تھی؟ عرض کیا:نہیں،آپ نے فرمایا:' تو اس سے تمہیں کوئی نقصان ہونے والا نہیں '۔

امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوسعیدخدری اورام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

نوٹ: (متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ 'سماک'جب منفرد ہوں تو ان کی روایت میں بڑا اضطراب پایاجاتاہے ، یہی حال اگلی حدیث میں ہے )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت