فهرس الكتاب

الصفحة 1239 من 3890

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل

1239 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعْنِيهِ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِعَبْدٍ بِعَبْدَيْنِ يَدًا بِيَدٍ وَاخْتَلَفُوا فِيهِ إِذَا كَانَ نَسِيئًا

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا اوراس نے نبی اکرمﷺسے ہجرت پربیعت کی، نبی اکرم ﷺ نہیں جان سکے کہ یہ غلام ہے۔اتنے میں اس کا مالک آگیاوہ اس کامطالبہ رہا تھا، نبی اکرمﷺنے اس سے کہا: تم اسے مجھ سے بیچ دو، چنانچہ آپ نے اُسے دوکالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد آپ کسی سے اس وقت تک بیعت نہیں لیتے تھے جب تک کہ اس سے دریافت نہ کرلیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے، ۳-اہل علم کااسی حدیث پرعمل ہے کہ ایک غلام کو دوغلام سے نقدانقدخریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب ادھار ہو تو اس میں اختلاف ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت