782 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ يَوْمًا مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَّا بِإِذْنِهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'عورت اپنے شوہر کی موجود گی میں ماہ رمضان کے علاوہ کوئی اور صوم بغیراس کی اجازت کے نہ رکھے ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیںـ: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ابن عباس اور ابوسعید رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۱؎: ' لا تصوم' نفی کا صیغہ جو نہی کے معنی میں ہے، مسلم کی روایت میں 'لا يحل للمرأة أن تصوم'کے الفاظ واردہیں، یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شوہرکی موجودگی میں نفلی صیام عورت کے لیے بغیر شوہر کی اجازت کے جائز نہیں، اوریہ ممانعت مطلقًا ہے اس میں یوم عرفہ اورعاشوراء کے صیام بھی داخل ہیں بعض لوگوں نے عرفہ اورعاشوراء کے صیام کو مستثنیٰ کیا ہے۔