فهرس الكتاب

الصفحة 781 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

صائم دعوت قبول کرے اس کا بیان​

781 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ قَالَ أَبُو عِيسَى وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ فِي هَذَا الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: 'جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے اور وہ صوم سے ہوتو چاہئے کہ وہ کہے میں صوم سے ہوں' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیںـ: اس باب میں ابوہریرہ سے مروی دونوں حدیثیں حسن صحیح ہیں۔

۱؎: 'میں صوم سے ہوں'کہنے کاحکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طورپر ہے، اگرچہ نوافل کاچھپانابہترہے، لیکن یہاں اس کے ظاہر کرنے کاحکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعوکے خلاف کوئی غلط فہمی اورکدورت راہ نہ پائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت