فهرس الكتاب

الصفحة 516 من 3890

کتاب: جمعہ کے احکام ومسائل

516 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ وَإِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہﷺاورابوبکروعمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں (پہلی) اذان اس وقت ہوتی جب امام نکلتااور (دوسری) جب صلاۃ کھڑی ہوتی ۱؎ پھرجب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے توانہوں نے زوراء ۲؎ میں تیسری اذان کا اضافہ کیا ۳؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: یہاں دوسری اذان سے مراداقامت ہے۔

۲؎: ز وراء مدینہ کے بازارمیں ایک جگہ کانام تھا۔

۳؎: عثمان رضی اللہ عنہ نے مسجدسے دوربازارمیں پہلی اذان دلوائی ، اورفی زمانہ لوگوں نے یہ اذان مسجدکے اندرکردی ہے اوردعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اذان عثمان رضی اللہ عنہ کی سنت ہے،اگرکہیں واقعی اس طرح کی ضرورت موجودہوتواذان مسجدسے باہردی جائے، ویسے اب مائک کے انتظام اوراکثرلوگوں کے ہاتھوں میں گھڑیوں کی موجودگی کے سبب اس طرح کی اذان کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ گئی، جس ضرورت کے تحت عثمان رضی اللہ عنہ یہ زائد اذان دلوائی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت