فهرس الكتاب

الصفحة 1575 من 3890

کتاب: سیر کے بیان میں

1575 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مَعَهَا مِنْ الْأَنْصَارِ يَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺام سلیم اور ان کے ہمراہ رہنے والی انصارکی چندعورتوں کے ساتھ جہاد میں نکلتے تھے، وہ پانی پلاتی اورزخمیوں کاعلاج کرتی تھیں ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ربیع بنت معوذ سے بھی روایت ہے ۔

۱؎: جہاد عورتوں پر واجب نہیں ہے، لیکن حدیث میں مذکور مصالح اور ضرورتوں کی خاطر ان کا جہاد میں شریک ہونا جائز ہے، حج مبرور ان کے لیے سب سے افضل جہاد ہے، جہاد میں انسان کو سفری صعوبتیں ،مشقتیں، تکلیفیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، مال خرچ کرنا پڑتا ہے، حج وعمرہ میں بھی ان سب مشقتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس لیے عورتوں کو حج وعمرہ کا ثواب جہاد کے برابر ملتاہے، اسی بنا پر حج وعمرہ کو عورتوں کے لیے جہاد قراردیا گیا ہے گویا جہاد کا ثواب اسے حج وعمرہ اداکرنے کی صورت میں مل جاتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت