فهرس الكتاب

الصفحة 1785 من 3890

کتاب: لباس کے احکام ومسائل

1785 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ مَالِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ قَالَ مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ

بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کرآیا، آپ نے فرمایا: 'کیابات ہے میں دیکھ رہاہوں کہ تم جہنمیوں کا زیورپہنے ہو؟ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کرآیا ، آپ نے فرمایا: ' کیابات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبوآرہی ہے؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کرآیا ،تو آپ نے فرمایا:' کیا بات ہے میں دیکھ رہاہوں کہ تم جنتیوں کا زیورپہنے ہو؟ اس نے پوچھا: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟' آپ نے فرمایا:' چاندی کی اور (وزن میں) ایک مثقال سے کم رکھو' ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے، ۳- عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اوروہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں۔

نوٹ: (اس کے راوی عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ حافظہ کے کمزور ہیں ، انہیں اکثر وہم ہوجایاکرتاتھا)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت