فهرس الكتاب

الصفحة 1717 من 3890

کتاب: جہاد کے احکام ومسائل

1717 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَال سَمِعْتُ نُبَيْحًا الْعَنَزِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي لِتَدْفِنَهُ فِي مَقَابِرِنَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهِمْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَنُبَيْحٌ ثِقَةٌ

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:احدکے دن میری پھوپھی میرے باپ کو لے کر آئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کریں، تو رسول اللہ ﷺ کے ایک منادی نے پکارا:مقتولوں کو ان کی قتل گاہوں میں لوٹادو (دفن کرو) ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اور نبیح ثقہ ہیں۔

۱؎: یہ حکم شہداء کے لیے خاص ہے، حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ شہداء موت و حیات اور بعث و حشر میں بھی ایک ساتھ رہیں، عام میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اشد ضرورت کے تحت منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، شرط یہ ہے کہ نعش کی بے حرمتی نہ ہو اور آب وہوا کے اثر سے اس میں کوئی تغیر نہ ہو،سعید ابن ابی وقاص کو صحابہ کی موجود گی میں مدینہ منتقل کیا گیاتھا، کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔

نوٹ: (متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ اس کے را وی نبیح عنزی لین الحدیث ہیں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت