فهرس الكتاب

الصفحة 1751 من 3890

کتاب: لباس کے احکام ومسائل

1751 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا يَعْنِي الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' جس نے کوئی تصویربنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتارہے گا یہاں تک کہ مصوراس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ، اورجس نے کسی قوم کی بات کان لگاکر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ۱؎ ، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوہریرہ ، ابوحجیفہ ، عائشہ اورابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: یعنی وہ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے، پھر بھی اس نے کان لگاکر سنا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت