1730 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ كُلُّهُمْ يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَمُرَةَ وَأَبِي ذَرٍّ وَعَائِشَةَ وَهُبَيْبِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جس نے تکبرسے اپنا تہ بند گھیسٹا ' ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابن عمرکی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں حذیفہ ، ابوسعیدخدری ، ابوہریرہ ، سمرہ ، ابوذر، عائشہ اور وہبیب بن مغفل رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۱؎: گویا تکبر کیے بغیر غیر ارادی طورپر تہ بند کا نیچے لٹک جانا اس میں کوئی حرج نہیں ہے،لیکن ارادۃ وقصدًانیچے رکھنا اور حدیث میں جو سزا بیان ہوئی ہے اسے معمولی جاننا یہ بڑا جرم ہے، کیوں کہ کپڑا گھسیٹ کرچلنا یہ تکبر کی ایک علامت ہے، جو لباس کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے۔