فهرس الكتاب

الصفحة 1020 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

1020 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اتَّبَعَ الْجَنَازَةَ لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ فَقَالَ هَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ قَالَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ خَالِفُوهُمْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَبِشْرُ بْنُ رَافِعٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو جب تک جنازہ لحد (بغلی قبر) میں رکھ نہ دیاجاتا، نہیں بیٹھتے۔ ایک یہودی عالم نے آپ کے پاس آکرکہا: محمد!ہم بھی ایساہی کرتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ بیٹھنے لگ گئے اور فرمایا:'تم ان کی مخالفت کرو'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بشر بن رافع حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں۔

نوٹ: (سند میں بشر بن رافع ضعیف راوی ہیں،لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، /دیکھیے الأرواء ۳/۱۹۳)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت