فهرس الكتاب

الصفحة 1139 من 3890

کتاب: نکاح کے احکام ومسائل

1139 حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ قَالَ السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَفَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ بَعْضُهُمْ قَالَ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً بِكْرًا عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمَا بَعْدُ بِالْعَدْلِ وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا لَيْلَتَيْنِ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگرمیں چاہوں توکہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا:' سنت ۱؎ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ہوتے ہوے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات رات ٹھہرے ، اورجب غیرکنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین رات ٹھہرے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے محمد بن اسحاق نے مرفوع کیا ہے، انہوں نے بسند ایوب عن ابی قلابہ عن انس روایت کی ہے اور بعض نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے،۳- اس باب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے، ۴- بعض اہل علم کااسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اور کنواری سے شادی کرے،تو اس کے پاس سات رات ٹھہرے ، پھراس کے بعد ان کے درمیان باری تقسیم کرے ، اورپہلی بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی غیرکنواری (بیوہ یامطلقہ) سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات ٹھہرے ۔ مالک ، شافعی ، احمداور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے،۵- تابعین میں سے بعض اہل علم نے کہاکہ جب کوئی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین رات ٹھہرے اور جب غیرکنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں دو رات ٹھہرے ۔ لیکن پہلاقول زیادہ صحیح ہے۔

۱؎: صحابی کا 'سنت یہ ہے' کہنا بھی حدیث کے مرفوع ہونے کا اشارہ ہے، تمام ائمہ کا یہی قول ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت