فهرس الكتاب

الصفحة 32 من 3890

کتاب: طہارت کے احکام ومسائل

32 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاوِيَةَ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے سرکا مسح کیا تو انہیں آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے، یعنی اپنے سرکے اگلے حصہ سے شروع کیا پھرانہیں گدی تک لے گئے پھر انہیں واپس لوٹایا یہاں تک کہ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا،پھرآپ نے دونوں پیر دھوئے ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں معاویہ، مقدام بن معدی کرب اورعائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث سب سے صحیح اور عمدہ ہے۔اوراسی کے قائل شافعی احمداوراسحاق بن راہویہ ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت