فهرس الكتاب

الصفحة 1582 من 3890

کتاب: سیر کے بیان میں

1582 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ أَوْ أَبْجَلَهُ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَتَرَكَهُ فَنَزَفَهُ الدَّمُ فَحَسَمَهُ أُخْرَى فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَحَكَمَ أَنْ يُقْتَلَ رِجَالُهُمْ وَيُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ يَسْتَعِينُ بِهِنَّ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمْ انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:غزوہ احزاب میں سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیرلگا، کفارنے ان کی رگ اکحل یا رگ ابجل (بازو کی ایک رگ) کاٹ دی، رسول اللہ ﷺ نے اسے آگ سے داغاتو ان کاہاتھ سوج گیا، لہذا آپ نے اسے چھوڑدیا ، پھرخون بہنے لگا، چنانچہ آپ نے دوبارہ داغاپھر ان کا ہاتھ سوج گیا، جب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے دعاء کی: اے اللہ! میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنوقریظہ (کی ہلاکت اورذلت سے) میری آنکھ ٹھنڈی نہ ہوجائے ، پس ان کی رگ رک گئی اور خون کا ایک قطرہ بھی اس سے نہ ٹپکا، یہاں تک کہ بنوقریظہ سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ کے حکم پر (قلعہ سے) نیچے اترے، رسول اللہ ﷺ نے سعد کو بلایا انہوں نے آکر فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے اورعورتوں کوزندہ رکھاجائے جن سے مسلمان خدمت لیں ۱؎ ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' تم نے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلہ کے موافق فیصلہ کیا ہے ، ان کی تعداد چارسوتھی، جب آپ ان کے قتل سے فارغ ہوئے توسعدکی رگ کھل گئی اوروہ انتقال کرگئے' ۲؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،۲- اس باب میں ابوسعیدخدری اورعطیہ قرظی رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: یعنی بنو قریظہ کی عورتیں مسلمانوں کی خدمت کے لیے ان میں تقسیم کردی جائیں۔

۲؎: اس حدیث میں د لیل ہے کہ مسلمانوں میں سے کسی کے فیصلہ پر دشمنوں کا راضی ہوجانا اور اس پر اترنا جائز ہے، اور ان کی بابت جو بھی فیصلہ اس مسلمان کی طرف سے صادر ہوگا دشمنوں کے لیے اس کا ماننا ضروری ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت