فهرس الكتاب

الصفحة 739 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

739 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْحَجَّاجِ و سَمِعْت مُحَمَّدًا يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ و قَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہﷺ کو غائب پایا۔تو میں (آپ کی تلاش میں) باہر نکلی توکیادیکھتی ہوں کہ آپ بقیع قبرستان میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ' کیا تم ڈررہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟' میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: 'اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان ۲؎ کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتاہے،اورقبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتاہے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کوہم اس سند سے صرف حجاج کی روایت سے جانتے ہیں،۲- میں نے محمدبن اسماعیل بخاری کو اس حدیث کی تضعیف کرتے سناہے،نیز فرمایا: یحیی بن ابی کثیر کا عروہ سے اور حجاج بن ارطاۃ کا یحیی بن ابی کثیر سے سماع نہیں ، ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔

۱؎: اس باب کا ذکر یہاں استطرادًا شعبان کے ذکرکی وجہ سے کیا گیا ہے ورنہ گفتگویہاں صرف صیام کے سلسلہ میں ہے۔

۲؎: اسی کو بر صغیر ہندو پاک میں لیلۃ البراء ت بھی کہتے ہیں، جس کا فارسی ترجمہ'شبِ براء ت' ہے۔اوراس میں ہونے والے اعمال بدعت وخرافات کے قبیل سے ہیں ، نصف شعبان کی رات کی فضیلت کے حوالے سے کوئی ایک بھی صحیح روایت اورحدیث احادیث کی کتب میں نہیں ہے۔

نوٹ: (مؤلف نے سبب بیان کردیاہے کہ حجاج بن ارطاۃ ضعیف راوی ہے، اور سند میں دوجگہ انقطاع ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت