فهرس الكتاب

الصفحة 3319 من 3890

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں

3319 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ قَدِمْتُ مَكَّةَ فَلَقِيتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ أُنَاسًا عِنْدَنَا يَقُولُونَ فِي الْقَدَرِ فَقَالَ عَطَاءٌ لَقِيتُ الْوَلِيدَ بْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ فَقَالَ لَهُ اكْتُبْ فَجَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَدِ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَفِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ

عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں:میں مکہ آیا، عطاء بن ابی رباح سے میری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے کہا: ابومحمد! ہمارے یہاں کچھ لوگ تقدیر کا انکار کرتے ہیں، عطا نے کہا: میں ولید بن عبادہ بن صامت سے ملا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے: سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیداکیا (بنایا) پھر اس سے کہا: لکھ ، تو وہ چل پڑا، اورہمیشہ ہمیش تک جو کچھ ہونے والاتھا سب اس نے لکھ ڈالا ۱؎ ۔

اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور اس باب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت