فهرس الكتاب

الصفحة 895 من 3890

کتاب: حج کے احکام ومسائل

895 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَنْتَظِرُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ يُفِيضُونَ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ (مزدلفہ سے) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابن عباس رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے۔

نوٹ: (شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ اس کے راوی 'حکم'نے 'مقسم ' سے صرف پانچ احادیث سنی ہیں، اوریہ حدیث شاید ان میں سے نہیں ہے ؟)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت