فهرس الكتاب

الصفحة 1052 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

1052 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُجَصَّصَ الْقُبُورُ وَأَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهَا وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهَا وَأَنْ تُوطَأَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي تَطْيِينِ الْقُبُورِ و قَالَ الشَّافِعِيُّ لَا بَأْسَ أَنْ يُطَيَّنَ الْقَبْرُ

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع فرمایاہے کہ قبریں پختہ کی جائیں ۱ ؎ ، ان پر لکھا جائے۲؎ اور ان پر عمارت بنائی جائے ۳؎ اورانہیں رونداجائے ۴؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- یہ او ربھی طرق سے جابر سے مروی ہے،۳- بعض اہل علم نے قبروں پرمٹی ڈلنے کی اجازت دی ہے، انہیں میں سے حسن بصری بھی ہیں،۴- شافعی کہتے ہیں: قبروں پرمٹی ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۱؎: اس ممانعت کی وجہ ایک تویہ ہے کہ اس میں فضول خرچی ہے کیونکہ اس سے مردے کوکوئی فائدہ نہیں ہوتا دوسرے اس میں مردوں کی ایسی تعظیم ہے جو انسان کو شرک تک پہنچادیتی ہے۔

۲؎: یہ نہی مطلقًا ہے اس میں میت کا نام اس کی تاریخ وفات اورتبرک کے لیے قرآن کی آیتیں اوراسماء حسنیٰ وغیرہ لکھنا سبھی داخل ہیں۔

۳؎: مثلًا قبّہ وغیرہ۔

۴؎: یہ ممانعت میت کی توقیروتکریم کی وجہ سے ہے اس سے میت کی تذلیل وتوہین ہوتی ہے اس لیے اس سے منع کیا گیا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت