فهرس الكتاب

الصفحة 1780 من 3890

کتاب: لباس کے احکام ومسائل

1780 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنْ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ثِقَةٌ قَالَ أَبُو عِيسَى وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ رَأَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْخَلْقِ وَالرِّزْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا يَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَيُرْوَى عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ صَحِبْتُ الْأَغْنِيَاءَ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَكْبَرَ هَمًّا مِنِّي أَرَى دَابَّةً خَيْرًا مِنْ دَابَّتِي وَثَوْبًا خَيْرًا مِنْ ثَوْبِي وَصَحِبْتُ الْفُقَرَاءَ فَاسْتَرَحْتُ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:' اگرتم (آخرت میں) مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے مسافرکے سامان سفرکے برابر حاصل کر نے پر اکتفاکرو، مالداروں کی صحبت سے بچواورکسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھ یہاتک کہ اس میں پیو ند لگالو ' ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے،۲- ہم اسے صرف صالح بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۳-میں نے محمدبن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صالح بن حسان منکرحدیث ہیں اور صالح بن ابی حسان جن سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے وہ ثقہ ہیں، ۴- نبی اکرمﷺ کے فرمان 'إیاک ومجالسۃ الأغیناء' کا مطلب اسی طرح ہے جیساکہ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:' جو شخص اس آدمی کو دیکھے جس کو صورت اوررزق میں اس پر فضیلت دی گئی ہو، تواسے چاہئے کہ اپنے سے کم ترکو دیکھے جس کے اوپراس کو فضیلت دی گئی ہے، کیوں کہ اس کے لیے مناسب ہے کہ اپنے اوپرکی گئی اللہ کی نعمت کی تحقیرنہ کرے ،۴- عون بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں: میں مالداروں کے ساتھ رہاتو اپنے سے زیادہ کسی کو غمزدہ نہیں دیکھا ،کیوں کہ میں اپنے سے بہترسواری اوراپنے سے بہترکپڑادیکھتاتھا اور جب میں غریبوں کے ساتھ رہاتو میں نے راحت محسوس کی۔

نوٹ: (سند میں 'صالح بن حسان ' متروک ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت