فهرس الكتاب

الصفحة 3228 من 3890

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں

3228 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ بِشْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ دَاعٍ دَعَا إِلَى شَيْءٍ إِلَّا كَانَ مَوْقُوفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا بِهِ لَا يُفَارِقُهُ وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ' جس کسی نے بھی کسی چیز کی طرف دعوت دی قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ چمٹااورٹھہرا رہے گا، وہ اسے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتا اگر چہ ایک آدمی نے ایک آدمی ہی کو بلایاہو' پھر آپ نے آیت {وَقِفُوہُمْ إِنَّہُمْ مَسْئُولُونَ مَا لَکُمْ لاَتَنَاصَرُونَ} ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت