فهرس الكتاب

الصفحة 1830 من 3890

کتاب: کھانے کے احکام ومسائل

1830 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَلَا آكُلُ مُتَّكِئًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ هَذَا الْحَدِيثَ وَرَوَى شُعْبَةُ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ

ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'میں ٹیک لگاکرنہیں کھاتا' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- ہم اسے صرف علی بن اقمرکی روایت سے جانتے ہیں، علی بن اقمر سے اس حدیث کو زکریا بن ابی زائدہ ، سفیان بن سعید ثوری اورکئی لوگوں نے روایت کیا ہے، شعبہ نے یہ حدیث سفیان ثوری سے علی بن اقمرکے واسطہ سے روایت کی ہے،۳- اس باب میں علی ، عبداللہ بن عمرواورعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

۱؎: ٹیک لگا نے کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلہ میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں: (۱) کسی ایک جانب جھک کر کھانا جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ یا کمنی پر ٹیک لگانا، (۲) زمین پر بچھے ہوئے گدے پر اطمینان و سہولت کی خاطر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا تاکہ کھانا زیادہ کھایاجائے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے بیٹھنے کو ٹیک لگاکر بیٹھنا قرار دینا صحیح نہیں ہے، حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ مستحب انداز بیٹھنے کا یہ ہے کہ پیروں کے تلوؤں پر گھٹنوں کے بل بیٹھے، یا دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بائیں پربیٹھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت