فهرس الكتاب

الصفحة 1577 من 3890

کتاب: سیر کے بیان میں

1577 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الشِّخِّيرِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَنَّهُ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً لَهُ أَوْ نَاقَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ قَالَ لَا قَالَ فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَعْنَى قَوْلِهِ إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ يَعْنِي هَدَايَاهُمْ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ مِنْ الْمُشْرِكِينَ هَدَايَاهُمْ وَذُكِرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْكَرَاهِيَةُ وَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ هَذَا بَعْدَ مَا كَانَ يَقْبَلُ مِنْهُمْ ثُمَّ نَهَى عَنْ هَدَايَاهُمْ

عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انہوں نے (اسلام لانے سے قبل) نبی اکرمﷺ کو ایک تحفہ دیا یااونٹنی ہدیہ کی، نبی اکرمﷺ نے پوچھا: کیاتم اسلام لاچکے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا:' مجھے تومشرکوں کے تحفہ سے منع کیا گیا ہے '۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- نبی اکرمﷺ کے قول 'إنی نہیت عن زبد المشرکین' کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ان کے تحفوں سے منع کیا گیا ہے ، نبی اکرمﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ مشرکوں کے تحفے قبول فرماتے تھے، جب کہ اس حدیث میں کراہت کا بیان ہے، احتمال ہے کہ یہ بعدکا عمل ہے، آپ پہلے ان کے تحفے قبول فرماتے تھے، پھرآپ نے اس سے منع فرمادیا ۱؎ ۔

۱؎: اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرکین کا ہدیہ قبول نہ کرنا ہی اصل ہے، لیکن کسی خاص یا عام مصلحت کی خاطر اسے قبول کیاجاسکتا ہے، چنانچہ بعض علماء نے قبول کرنے اور نہ کرنے کی حدیثوں کے مابین تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ جو لوگ دوستی اور موالاۃ کی خاطر ہدیہ دینا چاہتے تھے آپ نے ان کے ہدیہ کو قبول نہیں کیا اور جن کے دلوں میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کے متعلق انسیت دیکھی گئی تو ان کے ہدایا قبول کیے گئے۔ (واللہ اعلم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت