1836 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَزَّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے بکری کی دست کاگوشت چھری سے کاٹا، اوراس میں سے کھایا ، پھر صلاۃ کے لیے تشریف لے گئے اوروضونہیں کیا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،۲- اس باب میں مغیرہ بن شعبہ سے بھی روایت ہے۔
۱؎: اس سے معلوم ہواکہ چھری سے کاٹ کر گوشت کھایاجاسکتا ہے، طبرانی اور ابوداود میں ہے کہ چھری سے گوشت کاٹ کر مت کھاؤ کیوں کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، لیکن یہ روایتیں ضعیف ہیں، ان سے استدلال درست نہیں، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آگ سے پکی چیز کھانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا، کیوں کہ آپ ﷺ نے گوشت کھاکر وضو نہیں کیا۔