1979 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عِيسَى الثَّقَفِيِّ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَمَعْنَى قَوْلِهِ مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ يَعْنِي بِهِ الزِّيَادَةَ فِي الْعُمُرِ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' اس قدراپنا نسب جانوجس سے تم اپنے رشتے جوڑسکو، اس لیے کہ رشتہ جوڑنے سے رشتہ داروں کی محبت بڑھتی ہے ، مال ودولت میں اضافہ ہوتا ہے ، اورآدمی کی عمر بڑھادی جاتی ہے ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- 'منسأۃ فی الأثر' کا مطلب ہے 'زیادۃ فی العمر' یعنی عمرکے لمبی ہونے کاسبب ہے۔
۱؎: عمر بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ نیک عمل کی توفیق ملتی ہے، اور مرنے کے بعد لوگوں میں اس کا ذکر جمیل باقی رہتاہے، اور اس کی نسل سے صالح اولاد پیداہوتی ہیں۔اگرحقیقی طورپر عمران نیک اعمال سے ہوتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی بعیدبات نہیں ہے۔