فهرس الكتاب

الصفحة 275 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

275 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ وَأَنَسٍ وَالْبَرَاءِ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ الِاعْتِدَالَ فِي السُّجُودِ وَيَكْرَهُونَ الِافْتِرَاشَ كَافْتِرَاشِ السَّبُعِ

جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے ۱؎ اور اپنے ہاتھ کو کتے کی طرح نہ بچھائے' ۲؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں عبدالرحمن بن شبل ، انس، براء ، ابوحمید اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ سجدے میں اعتدال کوپسندکرتے ہیں اورہاتھ کودرندے کی طرح بچھانے کومکروہ سمجھتے ہیں۔

۱؎: یعنی ہیئت درمیانی رکھے اس طرح کہ پیٹ ہموارہودونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اورپہلوؤں سے جُداہوں اورپیٹ بھی رانوں سے جُداہو۔گویا زمین اوربدن کے اُوپر والے آدھے حصے کے درمیان فاصلہ نظرآئے ۔

۲؎: 'کتے کی طرح'سے مرادہے کہ وہ دونوں کہنیاں زمین پربچھا کر بیٹھتاہے، اس طرح تم سجدہ میں نہ کرو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت