فهرس الكتاب

الصفحة 1818 من 3890

کتاب: کھانے کے احکام ومسائل

1818 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ وَأَبِي مُوسَى وَجَهْجَاهٍ الْغِفَارِيِّ وَمَيْمُونَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' کافرسات آنت میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتاہے' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،۲- اس باب میں ابوہریرہ ، ابوسعید ، ابوبصرہ غفاری ، ابوموسیٰ ، جہجاہ غفاری ، میمونہ اورعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: علماء نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں: (۱) مومن اللہ کانام لے کر کھانا شروع کرتاہے، اسی لیے کھانے کی مقدار اگر کم ہے تب بھی اسے آسودگی ہوجاتی ہے، اور کافر چونکہ اللہ کانام لیے بغیر کھاتاہے اس لیے اسے آسودگی نہیں ہوتی، خواہ کھانے کی مقدار زیادہ ہویاکم ۔ (۲) مومن دنیاوی حرص طمع سے اپنے آپ کو دور رکھتاہے، اسی لیے کم کھاتاہے، جب کہ کافر حصول دنیا کا حریص ہوتاہے اسی لیے زیادہ کھاتاہے، (۳) مومن آخرت کے خوف سے سر شار رہتاہے اسی لیے وہ کم کھاکربھی آسودہ ہوجاتا ہے، جب کہ کافر آخرت سے بے نیاز ہوکر زندگی گزار تاہے، اسی لیے وہ بے نیاز ہوکر کھاتاہے، پھر بھی آسودہ نہیں ہوتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت