1784 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيِّ عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُكَانَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَلَا نَعْرِفُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيَّ وَلَا ابْنَ رُكَانَةَ
محمدبن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم ﷺ سے کشتی لڑی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے پچھاڑ دیا ، رکانہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: 'ہمارے اورمشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے '۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے،۲- اس کی سند قائم (صحیح) نہیں ہے،۳- ہم ابوالحسن عسقلانی اورابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں۔
نوٹ: (اس کے راوی ابوجعفر بن محمد مجہول ہیں نیزمحمد بن علی یزید بن رکانہ اور ان کے پردادا رکانہ یا محمد بن یزید بن رکانہ ان کے دادا کے درمیان انقطاع ہے ، اس بابت سخت اختلاف ہے دیکھئے: تہذیب الکمال)