فهرس الكتاب

الصفحة 656 من 3890

کتاب: زکاۃ وصدقات کے احکام ومسائل

656 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الضُّبَعِيُّ السَّدُوسِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ أَصَدَقَةٌ هِيَ أَمْ هَدِيَّةٌ فَإِنْ قَالُوا صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ وَإِنْ قَالُوا هَدِيَّةٌ أَكَلَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَلْمَانَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَأَبِي عَمِيرَةَ جَدِّ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ وَاسْمُهُ رُشَيْدُ بْنُ مَالِكٍ وَمَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي رَافِعٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدُّ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہﷺ کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: 'صدقہ ہے یا ہدیہ؟' اگرلوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو آپ نہیں کھاتے اور اگر کہتے کہ ہدیہ ہے تو کھالیتے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- بہز بن حکیم کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں سلمان ، ابوہریرہ، انس، حسن بن علی، ابوعمیرہ (معرّف بن واصل کے دادا ہیں ان کانام رشید بن مالک ہے) ، میمون (یا مہران) ، ابن عباس ، عبداللہ بن عمرو ، ابورافع اور عبدالرحمن بن علقمہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نیزیہ حدیث ' عبدالرحمن بن علقمۃ،سے بھی مروی ہے انہوں نے اسے عبدالرحمن بن أبی عقیل سے اور عبدالرحمن نے نبی ﷺ' سے روایت کی ہے۔

۱؎: صدقہ اورہدیہ میں فرق یہ ہے کہ صدقہ سے آخرت کا ثواب مقصودہوتا ہے اوراس کا دینے والاباعزت اورلینے والا ذلیل وحاجت مند سمجھا جاتا ہے جب کہ ہدیہ سے ہدیہ کئے جانے والے کاتقرب مقصود ہوتا ہے اورہدیہ کرنے والی کی نظرمیں اس کے باعزت اور مکرم ہو نے کا پتہ چلتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت