288 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ يَنْهَضَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ وَخَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ قَالَ وَيُقَالُ خَالِدُ بْنُ إِيَاسٍ أَيْضًا وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ هُوَ صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ وَأَبُو صَالِحٍ اسْمُهُ نَبْهَانُ وَهُوَ مَدَنِيٌّ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہـ نبی اکرمﷺ صلاۃ میں اپنے دونوں قدموں کے سروں یعنی دونوں پیروں کی انگلیوں پر زور دے کر اٹھتے تھے۔امام ترمذی کہتے ہیں: اہل علم کے نزدیک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کی حدیث پر عمل ہے۔ خالد بن الیاس محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ انہیں خالد بن ایاس بھی کہاجاتاہے، لوگ اسی کو پسندکرتے ہیں کہ آدمی صلاۃ میں اپنے دونوں قدموں کے سروں پرزور دے کر (بغیربیٹھے) کھڑا ہو۔
۱؎: جولو گ جلسئہ استراحت کے قائل نہیں ہیں اوردونوں قدموں کے سروں پرزوردے کربغیربیٹھے کھڑے ہوجانے کو پسندکرتے ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے استدلال کے قابل نہیں۔
نوٹ: (سند میں دوراوی خالد اورصالح مولیٰ التوامہ ضعیف ہیں)