فهرس الكتاب

الصفحة 1100 من 3890

کتاب: نکاح کے احکام ومسائل

1100 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا فَقُلْتُ لَا بَلْ ثَيِّبًا فَقَالَ هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَاتَ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعًا فَجِئْتُ بِمَنْ يَقُومُ عَلَيْهِنَّ قَالَ فَدَعَا لِي قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے ایک عورت سے شادی کی پھرمیں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضرہوا،توآپ نے پوچھا: جابر! کیاتم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں کی ہے، آپ نے فرمایا:'کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا:نہیں، غیرکنواری سے۔آپ نے فرمایا:' کسی (کنواری) لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی، تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی؟میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! (میر ے والد) عبداللہ کا انتقال ہوگیاہے،اور انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں،میں ایسی عورت کو بیاہ کرلایا ہوں جو ان کی دیکھ بھال کرسکے۔چنانچہ تو آپ نے میرے لیے دعافرمائی۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ابی بن کعب اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت