فهرس الكتاب

الصفحة 2019 من 3890

کتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں

2019 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَى بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا وَهَذَا الْحَدِيثُ مُفَسِّرٌ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' مومن لعن وطعن کرنے والا نہیں ہوتا ہے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- بعض لوگوں نے اسی سند سے نبی اکرمﷺ سے یوں روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:' مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعن وطعن کرنے والاہو'، یہ حدیث پہلی حدیث کی وضاحت کررہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت